ابراہیم موسی

ابراہیم موسی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1950ء (عمر 74–75 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی کیپ ٹاؤن یونیورسٹی (–جون 1995)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ڈاکٹر آف فلاسفی   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ماہر اسلامیات   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت کیپ ٹاؤن یونیورسٹی ،  ڈیوک یونیورسٹی ،  یونیورسٹی آف نوٹری ڈیم [3]  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابراہیم موسی (انگریزی: Ebrahim Moosa) یونیورسٹی آف نوٹری ڈیم کے شعبہ تاریخ میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔ اس سے قبل وہ ڈیوک یونیورسٹی میں مذہبیات اور اسلامی تعلیمات کے پروفیسر رہ چکے ہیں۔ دنیا بھر میں انھیں عصری اسلامی فکر کے عظیم مفکر اور عالم مانا جاتا ہے۔۔[4] انھیں دنیا بھر کی 500 انتہائی بااثر مسلم شخصیات میں شمار کیا چکا ہے۔ عصری مفکر آڈیس دودیریجا کے مطابق موسی “ترقی پسند مسلم فکر رکھنے والوں میں سب سے بہترین اور مایہ ناز ماہر مذہبیات ہیں۔“[5] یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس کے پروفیسر خالد ابو الفادی کا کہنا ہے کہ موسی “ ایک معتبر مسلم مفکر اور اسکالر ہیں“۔[6] 2007ء میں انھیں مراکش میں “عصری اسلامی فکر میں اخلاقی چیلینج“ کے عنوان پر مقالہ پیش کرنے کی دعوت دی گئی تھی جس میں ریاست کے بادشاہ محمد ششم مراکشی نے بھی شرکت کی تھی۔[7]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. بنام: Ebrahim Moosa — وی آئی اے ایف آئی ڈی: https://viaf.org/viaf/34732224 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. https://dx.doi.org/10.23640/07243.13066970.V1ORCID Public Data File 2020 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 جنوری 2021 — اجازت نامہ: CC0
  3. https://dx.doi.org/10.23640/07243.24204912.V1ORCID Public Data File 2023 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 نومبر 2023 — اجازت نامہ: CC0
  4. "The Great Debates: Islamic Debate-Speaker Bios"۔ asiasociety.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-03-16
  5. Adis Duderija (2011)۔ Constructing a Religiously Ideal Believer and Woman in Islam: Neo-traditional Salafi and Progressive Muslims' Methods of Interpretation۔ Palgrave Macmillan۔ ص 117
  6. Khaled Abou El Fadl (2001)۔ Speaking in God's Name: Islamic Law, Authority and Women۔ Oneworld۔ ص xii
  7. "Prof lectures to Moroccan monarch"۔ Duke Chronicle Online۔ 16 ستمبر 2007۔ 2014-03-17 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-03-16

بیرونی روابط

[ترمیم]