2012 باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ | |
---|---|
بسلسلہ the War in North-West Pakistan | |
مقام | باچا خان بین الاقوامی ہوائی اڈا, پشاور, خیبر پختونخوا, Pakistan |
متناسقات | 33°59′38″N 71°30′53″E / 33.99389°N 71.51472°E |
تاریخ | 15 December 2012 (پاکستان کا معیاری وقت) |
نشانہ | پی اے ایف بیس پشاور |
حملے کی قسم | Mass shooting, rocket attack |
ہلاکتیں | 9+ |
زخمی | 40+ |
مرتکبین | ![]() |
دفاع کنندگان | ![]() خیبرپختونخوا پولیس |
مقصد | Retaliation against military operations |
2012ء کا باچا خان بین الاقوامی ہوائی اڈا حملہ 15 دسمبر 2012ء کو پاکستان کے خیبر پختونخوا صوبے کے پشاور شہر میں تحریک طالبان کے دہشت گردوں کے ذریعہ باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ملحقہ پاکستان ایئر فورس بیس (پی اے ایف) پشاور پر ایک مربوط دہشت گرد حملہ تھا۔
باچا خان بین الاقوامی ہوائی اڈا پشاور کا اہم ترین شہری ہوائی اڈا ہے۔ اس میں پشاور کا پاک فضائیہ کا اڈا بھی شامل ہے۔ یہ ہوائی اڈا پاکستان کا ایک بڑا مسافر مرکز ہے اور یہ ملک کا چوتھا مصروف ترین ہوائی اڈا ہے۔[2] یہ اڈا ( پی اے ایف) کی شمالی فضائی کمان کے صدر دفاتر کے طور پر کام کرتا ہے۔[3]
باچا خان بین الاقوامی ہوائی اڈا پاکستان کا سب سے نازک اور اسٹریٹجک ہوائی اڈا ہے کیونکہ یہ پاکستان کے قبائلی علاقے کے قریب ہے اور اسے پاکستان ایئر فورس اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی دونوں مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ باچا خان بین الاقوامی ہوائی اڈے کو اکثر دنیا میں دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے سب سے زیادہ نشانہ بنایا جانے والا ہوائی اڈا سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل ٢٦ دسمبر ٢٠٠٦ ئ کو اڈے پر حملہ کیا گیا تھا جب خیبر روڈ پر ہوائی اڈے کے باہر گاڑی کے اندر نصب ایک بم پھٹا تھا۔[4] پھر ٢٨ اپریل ٢٠٠٧ ء کو ہوائی اڈے کی کینٹین کے اندر ایک چھوٹا بم پھٹا جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔[5][6] ان حملوں کے علاوہ بيشتر حملے ہواںی اڈے کے اّس پاس کے علاقوں میں کئی اور حملے ہوئے۔ زیادہ تر حملے تحریک طالبان نے کے خلاف فوجی کارروائیوں کے رد عمل کے طور پر کیے تھے۔[7]